پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انتہائی
’ان پریڈیکٹیبل‘ ٹیم ہیں یعنی
ایسی ٹیم جس کے بارے میں کوئی پیشنگوئی نہیں کی جا سکتی کہ وہ کب 50 رنز سے کم پر ڈھیر ہو جائیں اور کب ساڑھے تین سو کا TV ہدف اطمینان سے پورا کر لیں گے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی شائقین بھی اپنی ٹیم سے مشکل سے مشکل وقت میں بھی معجزوں کی امیدیں لگائے رہتے ہیں۔
جب ماؤنٹ ماؤنگانوئی میں جاری پہلے میچ کے چوتھے دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے 38 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 71 رنز بنائے تھے اور سابق کپتان اظہر علی 34 اور فواد عالم 21 رنز پر کھیل رہے تھے۔
پاکستان نے اپنی اننگز شروع کی تو دونوں اوپنرز شان مسعود اور عابد علی بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹ گئے جب حارث سہیل بھی 37 کے سکور پر چلتے بنے تو یہ ڈر ہوا کہ کہیں پاکستان آج ہی اپنا بوریا بستر نہ سمیٹ لے لیکن پھر اظہر اور فواد نے 20 اوورز میں 34 رنز کی شراکت قائم کر لی۔

